Newsletter subscribe

اردو

پنکھے کا رخ ۔۔

Posted: October 17, 2016 at 6:27 pm   /   by   /   comments (0)
پنکھے کا رخ کسی نے گھما دیا ہے !
قیصر رونجھا
بچپن میں زیادہ بہن بھائی ہونے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان کوکسی اور کے خلاف سازشیں کرنے کے لئے وقت نہیں ملتا اور گھر ہی گھر میں کھلیل کھیل میں بندہ ہوشیار ہوجاتا ہے۔مثال کے طور پر گائوں میں گرمی کی راتوں میں ماہیں دو یا تین بچے ایک پلنگ (چارپائی )پر سلا دیتی تھیں اور ایک پلنگ اس کے ساتھ ہوتا تھا جس پر بچوں کے اس گروپ سے قدرے بڑی عمر کا بھائی یا بہن سوتی تھی۔ پلنگ کا ایک دسرے کا ساتھ ہونے اور ایک پلنگ پر تین چار بچوں کے ساتھ ہونے کے پیچھے بہت سارے عمل کار فرما تھے۔
مثال کر طور پر چھوٹے بچے رات کو کروٹ بدل کرگرنے کے خطرے سے محفوظ تھے، وسائل کی کمی کی وجہ ایک پنکھے سے آدھے خاندان کو فائدہ ہوجاتا تھا، اور یہ کہ بچےچونکہ چھوٹے تھے تو رات کو بچوں کے کسی ممکنہ سرجیک اسٹرائک کی صورت میں ایک ہی رضائی کے خراب ہونے کا امکان ہوتا تھا۔ تو یہ کام ماں کی معیشیت اور افرادی قوت کے لیے کافی مفید تھا۔
سب سے بڑھے بھائی پنکھے کے دوسرے طرف ہاتھ والا پنکھا ہلا ہلا کے سونے کی کوشش کرتے تھے اور جب چھوٹے بہن بھائی یہ دیکھتے کہ ہمارے لئے بھائی کتنی قربانی دے رہا ہے، خوشی بھی ہوتی اور اس خوشی سے نیند بھی آجاتی۔
بچوں کو نیند آنے کی دیر ہوتی کہ بڑھا بھائی پنکھے کا منہ اپنی طرف کردیتا اور ان چھوٹے بچوں کو صرف پنکھےکی آواز کے بھروسے چھوڑ دیتا اور بچے یہ آواز سن کر ساری رات گزاردتیے اور اسی خوشی میں رہتے کہ ہوا ان تک پہنچ رہی ہے۔

a-village-house-during-rain

اور اگر اس دوران گرمی کا زور بڑھ جاتا تو اٹھ بیٹھتے ، تھوڑا نیند کی حالت میں ہڑ بھڑاتے اور پھر کسی کی لات کسی کے پیٹ پر کسی کا ہاتھ کسی کے منہ رکھ کرواپس سو جاتے اور صبح جب اٹھتے تو اپنی بدلی جگہ دیکھتے تو یہ یقین پختہ ہوجاتا کہ زمین گھومتی ہے مگر صرف جب ہم سو جاتے ہیں۔
میں بھی اسی صورتحال میں بڑھا ہوا ہوں اور ابھی بھی گھر جاتا ہوں تو اپنے بھتیجوں کو اسی حالت میں پاتا ہو ں اب یقینی طور پر محرکات بدل چکے ہیں، مجھے اس پلنگ کے بعد دنیا کی مہنگی ترین ہوٹلز کے مہنگے ترین رومز میں بھی وہ پر سرور نیند نہیں آتی جو وہاں آتی ہے۔
اب جو حالات دیکھتا ہوں، اخبار پڑھتا اورسوشل میڈیا پر ٹرینڈز دیکھتا ہوں تو لگتا ہے ہمارے ملکی پنکھے کا رخ بھی کسی نے گھمادیا ہے، ہو ا وہ لیتے رہتے ہیں اور ہم تک صر ف ذووووں زووں کی آواز آتی ہے اور ہم انہی آوازوں میں خوش ہیں ایک دوسرے کو لاتیں مار رہیں ، بھوکے ملکوں کی عالمی رینکنگ میں ہمارے نمبر سب سے آگے ہیں، خواتین کے لئے خطرناک ترین ملکوں میں ہمارا نمبر سب سے آگے آدھی سے زیادہ آبادی خطِ غربت سے نیچے ہے، کروڑوں بچے سکولوں میں نہیں جاپاتے، ہزاروں ماہیں بچوں کو اس دنیا میں لاتے لاتے خود چلی جاتی ہیں، چھوٹی عمر میں بچیوں کی شادی کرا کے ان کے سارے خواب مار دیئے جاتے ہیں، علیمی اداروں میں بچوں کی تربیت نہیں کی جاتی بس ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی ریس میں لگا دیا جاتا ہے۔لیکن ہم صرف پنکھے کی آواز پر خوش ہیں، کبھی کسی خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر اس کی تصاویر پر بحث مباحثہ کبھی کسی لڑکی کے بولڈ سین سے لیکر اس کے قتل تک تذکرے ،کبھی کسی چاہئے والے کی تصویر پر چرچے اور پھر جب کوئی مصیبت اور آفت آتی ہے تو ہم سوچتے ہیں یہ کیسے ہوا، کیوں ہوا، پھر اسی پنکھے والی کہانی کی طرح یہ خیال آجاتا ہے کہ شاید ہم سوئیں اور صبح اٹھیں تو ہماری زندگی یا ہمارے جیسے اور کہی لوگوں کی زندگی جو اس ملک میں رہتے ایک الگ پوزیشن پر ہوگی ۔ جو ممکن نہیں۔
ہوشیار رہیے اپنے پنکھے پر نظر رکھیں کہ کوئی آپ کو آوازوں کے پیچھے لگا کے پنکھے رخ تو نہیں موڑرہا۔
Facebook Comments

Comments (0)

write a comment

Comment
Name E-mail Website