مقابلے۔۔۔ہمارے اور انکے

اس کے چہرے پر بے چینی تھی،جو عمومی طور اس دوران نظر آتی ہے جب آپ کوآنے والے کل کا انتظار ہوتا ہے اور آپ کو یقین ہوتا ہے کہ آنے والا کل آ پ  کو آپ کےمشن کے قریب لے جائےگا۔

میری اس سے دوستی کوئی زیادہ پرانی نہیں تھی لیکن جتنی بھی تھی بڑی ہی کمال کی تھی،یہ ہماری دوسرے ملک میں دوسری ملاقات تھی۔

چھوٹے سے درمیانے قد کے نوجوان کے اندر بیک وقت شرارتی اور سلجھے ہوئے شخص کی نشانیاں تھی۔

خیر شب کو صبح میں بدلتے دیر نہیں لگی اور سورج پہاڑوں کے درمیاں سے مسکراتے ہوئے سب کو مسکرا  کہ دیکھ رہا تھا۔

میرے اس دوست کی مسکراہٹ دیکھنے کے قابل تھی، اس نے کہا جلدی جلدی تیار ہو چلتے ہیں میرے بے جا اسرار پر بھی اس نے مجھے بتایا نہیں کہ جانا کہاں ہے، خیر میں بھی تیارہوکر اس کے ساتھ پیدل چل نکلا اور کھٹمنڈو کی تمل علاقے میں مصروف بازار میں تھے اس نے موبائل میں کچھ دیر نظر دوڑائی اور پھر ایک گلی میں داخل ہوگیا،گویا وہ موبائل سے اس پتے کا پیچھا کرتا ہوا آیا تھا۔

وہ دوکان کے اندر داخل ہوا اور میں باہر کھڑا ہوکر دیکھتا رہا اور پھر باہر نکلا اور میرا ہاتھ پکڑکر  اندر لے گیا ، یہ گویا ایک کتاب گھر ہے جس میں بے شمار کتابیں مختلف شلیفز میں پڑھی ہیں ارد گرد مختلف سیاح کتابوں کی چھان بین میں مصروف تھے۔

میں نے ان سیاحوں سے توجہ ہٹائی تو محصوص ہوا کہ میرا دوست بہت شدت سے کتابوں میں کھویا ہوا ہے گویا کسی بچے کو کھلونوں کی دوکان میں چھوڑدیا گیا ہو۔

مجھے قریب دیکھ کراس نے کتاب اٹھائی اور انگریزی زبان میں اس کی کہانی مجھے سناتا رہا ،کہ میں نے یہ کتاب کب پڑھی، اس میں کیا ہوتا ہے، الغرض ہر وہ چیز اس کتاب کے متعلق اسے یاد تھی وہ بتا تا رہا ہتاکہ اس کتاب میں میں موجود کرداروں کے مذہب،دنیا،معاشعرے کے متعلق سوچ کا بھی اسے علم تھا۔

میں صرف اثبات میں سر ہلاتا رہا اور موقع ملتے ہی ارد گرد گھومتے سیاحوں پر نظر ڈالتا رہا، اور ایک کتاب سے دوسری کتاب تک کرتے کہی کتابوں کے سیاق و سباق مجھے بتا تا رہا۔

اس نے کائونٹر تک پہنچنتے کئی کتابیں اٹھا لیں تھیں وہ آگے بڑا اور سیلز وومن کو کتابیں تھمائیں اور بل کی درخواست کی، سیلز وومن کیلکولیٹر پر جمع نفی کر رہا تھی کہ اس نے کا رکو ایک اور کتاب لینی ہے۔

میں نے کہا بھئی اتنی کتابیں کافی نہیں ہیں تو کہنے لگا نہیں یہ تمارے لئے رہا ہوں، تمہیں نہیں پتہ آج کتابوں پر میگا سیل لگی ہے

ہم دوکان سے تو باہر نکل آئے لیکن میں ابھی تک اپنی سوچوں میں الجھا ہوا تھا،

اس نے موبائل بڑھاتے ہوئے کہا یہ دیکھو، میں نے غور کیا تو یہ نظر آیا کہ بہت سی کتابوں کے نام لکھیں، میں ابھی کچھ کہتا اس سے پہلے ہی وہ کہنے لگا، یہ کتابیں میں نے پچھلے سال پڑھی ہیں جن کی تعداد پینتالیس ہے اصل میں میرا اپنے بھائی کے ساتھ مقابلہ ہے اس نے پچھلے سال پچپن پڑھیں اور وہ جیت گیا اس دفعہ میں جیتونگا کیونکہ یہ سال کا تیسرا مہینہ اور میں پینتیس کتابیں پڑھ چکا ہوں۔

میں اس کی آنکھوں کی چمک اور اس کے الفاظ میں موجود جذبے پر حیران ہی رہا اور اپنے ارد گرد کے نوجوانوں کے بارے میں سوچتا رہا کہ وہ کس کس مقابلے میں اور دنیا کہاں کہاں مقابلے کر رہی ہے۔

ملے وزیر اعظم نواز شریف کو۔۔۔

محترم جناب نواز شریف،

  وزیر اعظم پاکستان !!!

اس یقین کےساتھ کہ آپ ایک بہتر اور روشن پاکستان کے لئے مصروفِ عمل ہیں،

عزت ماُب وزیر اعظم،  آج ایک خبر سے نظر گزری کہ آپ نے اسلام آباد کے 122اسکولز کے نام کو بدل کر ان شہید بچوں کے نام کیا جو آرمی پبلک سکول کے سانہہ میں پچھلے سال ہم سے دور ہوگئے ہیں، یہ یقینی طور پر ان معصوموں کا یاد رکھنے کی طرف ایک سنہرا قدم ہے۔

میرے دوستوں کا ماننا ہے کہ دشمن کے بچوں(بقول آپ کے) کو پڑھا کر بدلا لینے سے ایک”  تفریق” کا خیال آتا ہے، کیونکہ بچے تو بچے ہوتے ہیں اور ان کا بچہ ہونا ہی ان کی شناخت ہوتی ہے۔

ان کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ  یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے اپنے بچے جو خیبر پختونخوا،سندھ،بلوچستان کے بے شمار علاقوں میں لاکھوں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں سکولوں سے باہر پائے جاتے ہیں ان تک تعلیم کو لے جانا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیئے ورنہ ایسا نہ ہوں کہ وہ بھی اپنے آپ کو دشمن کا بچہ سمجھیں ؟ اور آ کو تو پتہ ہے جو بچے سکول نہیں جا پاتے وہ زندگی میں کہیں بھی نہیں جاسکتے۔

جناب والا، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ہمیں  نہ پڑھنے والوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ اس اس بات پر بھی غور کرنا ہے کہ جن کو ہم پڑھا رہے ہیں ان کو کیا پڑھایا جارہے ہے ؟ کیا ہماری سلیبس کی کتابیں ہی معصوم بچوں کے زہن ے اندر شدت پسندی، انتہا پسندی، تفریق کا سبق تو نہیں دیتی  ؟ کیا ہماری کتابیں بچوں کے زہن میں دوسری ریاستوں،اقلیتوں اور مختلف نظریات رکھنے والے لوگوں کے خلاف نفرت انگیز،شر انگیز جزبات کو تو نہیں ابھار رہیں ؟

کہیں ہماری کتابیں بچوں کو تبدیلی سے خائف تو نہیں کرتیں ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے تعلیمی ادارے بچوں کو مختلف سوچنے،سوال کرنے اور اپنا نقطہ نظر دینے سے ڈراتے تو نہیں ؟

محترم سرپسرتِ پاکستان،

عرض یہ  کہ ہمیں اپنے تعلیمیِ نظام میں اس طرح کی استطلاحات لانے کی ضرورت ہے  جو بچوں کو بتا سکیں کہ آج کے دور کے ہیرو ایسے لوگ نہیں جو جنگ کرسکیں، مرنا  مارنا جانتے ہوں، بلکہ ہمیں اب ایسی ہیروز کی تلاش ہے جو جنگ ہونے کے سدباب کو روک سکیں،جو لوگوں کی زندگی کو بہتر کر سکیں، اس لئے ضروری کہ ہمیں اپنے بچوں کے لئے ہیروز کی تعریف(Defination) کو بدلنا ہوگا۔

اور ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جن اداروں میں اس قسم کے کے مواد، خیالات اور نظریات کو پرورش ملتی ہے جہاں لوگوں کے دلوں میں علم محبت لانے کے بجائے نفرت کا باعث بنتا ہے، جدھر بچوں کے زہن میں یہ بات پیوند کی جاتی ہے کہ جو صرف وہ دیکھتے ہیں یا سنتے ہیں وہی سچ اور باقی سب کافر ہیں، 

ان سب چیلنجز کو ڈیل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم دشمن کے بچے (آپ کے بقول)  کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنےدوستوں کے بچوں کو بھی ٹیوشن دینے کی ضرورت ہے

اس یقین کے ساتھ کہ آنے والا کل ،گزرے ہوئے کل سے بہتر ہوگا،

پڑھے گا پاکستان تو بڑھے گا پاکستان۔

الٖغرض

قیصر رونجھا

لسبیلہ بلوچستان

لیکن زندگی بھر کا ساتھ کون مانگتا ہے۔۔۔

زندگی میں بہت دفع ایسا ہوتا کہ ہم بہت ساری چیزوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، کچھ چیزیں یا لوگ ہم سے اس وقت ہی چھن جاتے ہیں گویا جب ہم ان کے خیال میں ہی ہوتے ہیں۔
وقت کے پہے آگے بڑھتے ہیں تو ہم کچھ اور چیزوں کے لئے کوشش کر تے ہیں، لیکن ہم اپنی کوششوں میں ناکام تو میں نہیں کہنا چاہتا مگر ہم کامیاب نہیں ہوپاتے۔۔۔
اور  کچھ سلسلوں میں  یہوں ہوتا ہے کہ  چیزوں کا حصول کامیاب ہوجاتا ہے ، وہ بہت نزدیکی تک آجاتی ہیں جن کے ساتھ ہماری امیدیں ہمارے مستقبل کے خواب جھڑ جاتے ہیں، کچھ کنیکنشن بن جاتے ہیں۔۔
پھر کیا ہوتا ہے جب ہم بہت سی ایکسپیکٹیشنز بنا لیتے ہیں ہیں، تو کچھ عرصے میں چیزیں یا وہ لوگ ہم سے وہ بچھڑ جاتے ہیں، کچھ لوگ انہیں بے وفا کہتے ہیں اور کچھ لوگ انہیں کچھ اور۔۔۔
لیکن میرے خیال میں وہ بے وفا نہیں ہوتے۔۔۔۔ہر شخص کا ہر چیز کا آپ کی زندگی بس کچھ مخصوص وقت کے لئےآنا ہوتا ہے، وہ  آپ کی کہانی میں اپنا رول ادا کرنے آتے ہیں پھر واپس کہیں کھو جاتے ہیں، اور کسی اور فلم میں کسی اور کردار سے ساتھ کوئی اور کردار۔۔۔۔
کہتے ہیں کہ کچھ لوگ آپ کا ساتھ نبھانے آتے ہیں اور کچھ لوگ سبق سکھانے۔۔
لیکن زندگی بھر کا ساتھ کون مانگتا ہے۔۔۔
ہم تو صرف اتنا چاہتے ہیں، کہ بس اتنی دیر ہمارے سامنے رہا جائے جب تک یہ آنکھیں دیکھنے کی طاقت رکھتی ہیں،
اور تب تک ہم  سے گفتگو کا تعلق رکھیں جب تک یہ کان سن نے کی سکت رکھتے ہیں۔
غرض صرف تب تک تعلق رکھیں جب تک سانس کا سلسلہ جاری ہے۔۔
پھر آپ جانیں آپ کا خدا جانے۔۔۔

Last Option

”Last Option”پچھلے مہینے کی سولہ تاریخ کو جب اس نے اپنے فیس بک پر
کےکیپشن کے ساتھ یہ تصویر اپلوڈ کی تو شاید ہی اس کے کسی  رشتے دار یا دوست

نے اس خوبصورت نوجوان کی اس حرکت کو اہمیت دی ہو۔

 لیکن آج بہت سے دوستوں،رشتہ داروں کے لئے کئ سوال چھوڑے  وہ جاچکا ہے اب نہ وہ اس تصویر پر ہونے والے کسی کمنٹ کا جواب دے سکتا ہے نا ہی کسی کے کہنے پر اس  تصویر کو ہٹا سکتا ہے۔

Screen Shot 2015-07-02 at 4.30.59 am
جب میرے ایک دوست نے اس کی یہ تصویر اس تبصرے کے ساتھ شیئر کی کہ افسوس ہم اس کو سمجھ نہ پائے ،

تو میرا تجسس اس تصویر کے پیچھے کی کہانی کو جاننے کے لئے بےبڑھتا گیا۔

میں نے اس  دوست سے  جب اس اقدام کی وجہ دریافت کی تو کچھ یہوں تھی کہ یہ پڑھا لکھا نوجوان کسی کی محبت میں گرفتار ہوچکا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ اس محبت کو شادی میں بدل دے، لیکن اس کے گھر والے اپنی زاتی انا،خاندان،براردی،قومیت کے چکروں میں رہے اور اس نوجوان کو نہ سمجھا سکے اور نہ اس کو جتوا سکے۔

ایک دن قبل اس نےذہر کھا کر سب کو ہرانے کی کوشش کی، پہلے مرحلے میں تو ڈاکٹر اس کو بچانے میں کامیاب ہوگئے لیکن وہ شام تک اپنے آپ کو،گھر والوں کو،اپنے محبوب کو، محبت کو سب کو ہرا کر کہیں بہت دور چلا گیا، جہاں سے واپسی کا راستہ ممکن نہیں۔

20150701161407

ہم پچھلے کہی دنوں سے فیس بک پر امریکی سپریم کورٹ میں پاس ہونے والے اس قانوں پر شدید بحث میں مصروفِ عمل ہیں جس کا براراست ہماری زندگیوں پر کوئی اثر نہیں ،لیکن ہمارے اپنے گلی ،محلوں میں خاندانوں میں جو چھوٹے چھوٹے سپریم کورٹس اپنےقوانین اپنی قومیت کے نام پر، کبھی برادری،زات پات و مسلک کے نام پر ہمارے اوپرصدیوں سے  زبردستی نافظِ عمل کئے ہوئے ہیں ان پر بات کرنے کی ہمت ہم سے نہیں ہورہی۔

مجھے پتا ہے اس نوجوان نے خودکشی جیسا کام کر کے غلطی کی لیکن یقینی طور پر ہمارہ معاشرہ مجموعی طور پر اس کی موت کا زمہ دار ہے۔

Al8ZrkXpvkbYD4Zp5F2c4kTdGfloFG--RvTJOJiDv-ls (1) 

اب زرہ کوئی ان والدین سے پوچھے کہ کیا بیت رہی ہے ؟

ایک نئی تیلی, ایک نیا سگریٹ

انور صاھب مسلسل غصیلے اور جزباتی انداز میں برمی لوگوں پر ہونے والے مظالم کی دکھ بھری داستان سنا ئے جار ہے تھے اور حکمرانو ں کی غیرت کو للکار تے ہوئے پچھلے ادوار کے ان لوگوں کا زکر کر رہے تھے جنہوں نے مظلوم کی ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہزاروں میل دورسے آکر ان کو ظالموں سے نجات دلائی۔۔۔

 

انور صاھب جو ایک رئٹائرڈ ماسٹر ہیں اور فن تقریر میں خاصا کمال رکھتے ہیں، ان کی محفل میں ہمیشہ کی طرح آج بھی زیادہ ہی لوگ تھے۔

 

تمام لوگوں پر انور صاھب کی شعلہ بیانی کی وجہ سے، ایک خاص قسم کی کیفیت طاری تھے، سوائے ایک صاھب کے جو ایک ہاتھ سے سگریٹ کے سوٹے لگار رہے تھے اور دوسرے ہاتھ میں چابی سے اپنے کان کی صفائی میں مصروف عمل تھے۔۔۔

 

انور صاھب چونکہ استاد رہے چکے تھے تو جلدی ہی ان صاھب سے پوچھ بیٹھے ہاں بھائی آپ کی غیرت نہیں جاگتی یہ سن کر۔۔۔

 

وہ صاحب بولے، ماسٹر صاحب، ہمارا بھی دل چاہتا ہے اسی طرح بولیں ،لیکن ہمارا ضمیر ہم سے کہتا ہے، اتنے دور رہنے والے انسانو ں کا تجھ کو دکھ تو ہوتا ہے لیکن تیرے ہی شہر میں رہنے والے لوگوں پر تمہیں کبھی دکھ نہیں ہوا ، جن کی پوری نسل کو اجاڑ دیا گیا، جن کی شناخت کر کر کے مارا جاتا رہا، جن کے جنازوں تک کو بھی نشانه بنایا گیا، جن کی سینکڑوں لاشیں منفی درجہ حرارت میں چار دن کو سڑکوں پر پڑی رہیں، اور تو ان لوگوں کو تو برا کہتا ہے لیکن اپنے ملک میں رہنے والے لوگوں کے خلاف بولنے کو تو تمہارے منہ بند تھے گویا جو تمہارے جوانوں کے سر کاٹ کر فٹبال کھلیتے رہے، جو تمہارے بچوں کو پوائنٹ بلینک پر گولیاں مار مار کر ہلاک کرتے رہے، جنہوں نہ تمہارے اسکول چھوڑے ،نہ مدرسے،نہ مساجد،نہ گرجا گھر،نہ مندر۔

 

ان مظالم کے خلاف تو کبھی نہ بولا، اب میں بولتا ہوں تو میرے اندر کا انسان میرا ساتھ نہیں دیتا۔

 

ماسٹر صاھب مجھے لگتا ہے ہم کو مرنے والے کا دکھ نہیں بلکہ مارنے والے پر غصہ آتا ہے، اگر کوئی اپنا مارے ٹھیک لیکن کوئی دوسرا ہو تو، تیری ایسی کی تیسی۔۔۔۔سب پر سکتہ طاری کرنے والے ماسٹر صاھب پر آج گویا سکتا طاری ہوگیا ہو،

 

محٖفل میں مسلس خاموشی اور ایک نئی تیلی ایک نئے سگریٹ کے سلگا چکی تھی۔۔۔

 

آپ نے اجازت دے دی ہے۔

میں پچھلے دو دن سے  یہ کوشش کر رہا ہوں کہ میرے اندر کچھ اس طرح کے احساسات پیدا ہوں کہ تھوڑا سا دکھ ہو، تھوڑا غم جاگے ،کوئی آنسوں ائے آنکھ میں، کھانہ کھانے کا دل نہ کرے، ٹی وی بند کروں ،میوزک نہ سنوں، اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر گھڑ گھڑاہوں،کرکٹ کا میچ نہ دیکھوں ۔۔میں اس مقصد کی خاطر بار بار روتے ہوئے معصوم بچوں کی تصویریں دیکھ رہا ہوں جو اس لئے رو رہیں کہ  کسی نے ان کو آکے کہا ہے کہ آپ کے والد کو قتل کر دیا گیا ہے، کیوں قتل کیا گیا اس کو جواب نہ ان بچوں کو چایے نہ ان کو دلاسہ دینے والے لوگوں کے پاس ہے

Continue reading آپ نے اجازت دے دی ہے۔

آزادی ،اندیکهی ذینجروں سے۔۔

ہم انسان بھی شاید اسی پرندے کی طرح ہیں جس کو طویل عرصے تک اگر ایک پنجرے میں رکھا جائے اور ایک دن اس کا دروازہ کھول بھی دیا جائے تو بھی وہ باہر نہیں جاتا، کیونکہ اس کو اس غلامی سے اتنی محبت ہو جاتی ہے کہ اسے کچھ اور سجائی نہیں دیتا،کچھ سمجھ نہیں آتااوراس کو اگر کوئی نکال کر اس پنجرے سے باہر رکھ بھی دے تو وہ پھر بھی مسلسل اسی پنجرے کے مطعلق سوچتا رہیگا، یا شاید چھوٹے چھوٹے پنجرے اپنے ارد گرد لیئے پھرتا رہے۔

 

 

ہماری لئے شاید اب پنجروں کی شکل و صورت بدل گئی ہیں،پہلے لوہے کی باریک برکم سلاخوں کے پیچھے انسانوں کو دھکھیل دیا جاتا تھا۔آج ان کی شکل شیشے کی بنیان چھوٹی، بڑھی اسکرینوں میں بدل گئی ہے اور یہ ہمارے لئے ایک طریقے کی قید بن گئی ہیں،ہم آزاد ہوکر بھی شاید آزاد نہیں، ہم ارجنٹ چیزوں کے چکر میں اہم چیزیں چھوڑتے جار ہے ہیں، شاید احساس ،خلوص کم ہوتا جارہا ہے شاید ،ہم لوگوں کے ہجوم میں بیٹھے ہوئے بھی تنہا ہوتے جارہے ہیں،چونکہ ہمارہ جسم کہیں ہوتا ہے،سوچ کہیں اور،احساس کہیں ،دور والوں کے پاس ہوتے ہیں اور پاسوالوں سے دور شاید۔۔۔۔

 

پچھلے دنوں جب ایک عزیز کی فوتگی ہوئی تو انکی میت کے پاس بیٹھ کر ان کے پائوں پکڑ کے میں کافی دیر اس لمس کو محصوص کرتا رہا کیونکہ وہ چھونے کا احساس مجھے پھر نہ مل سکے گا۔ میں سوچتا رہا کتنی دفع ایسے ہوتا رہا جب کبھی میں ان سے ملتا رہا وہ نہ جانے کتنی باتیں کرتے رہے مجھ سے لیکن میں،ان کو سن نہ پایا ،شاید میرے کانوں نے سنا ہو ،لیکن میرے احساسات نے نہیں کیونکہ وہ تو ایک چھوٹی سی سکرین میں ہی مگن رہتے تھے۔۔۔۔۔۔

 

 

پھر غور کیا کہ کہ ناجانے کتنے اور لوگ بھی مجھ سے بات کرتے ہیں،لیکن میرے کان تک وہ باتیں تو پہنچتی ہیں لیکن اس کے بعد کوئی فاصلہ طے نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔

 

 

اب سوچتا ہوں کےاتنے خوبصورت انسانوں سے،قدرت کے مناظروں سے ،پرندوں سے،پھولوں سے میں ملتا رہا وہ سب، کچھ نہ کچھ باتیں کرنا چاہتے تھے لیکن میں ان کو سن نہیں پایا،میں ان کے احساس کو محسوس نہ کر پایا،میں شاید اس شخص ،اس پرندے ،اس منظر کے ساتھ تصویر لینے کا سوچتا رہا۔۔۔۔۔، بلا شبہ تصویریں تو بے شمار آگئیں میرے پاس لیکن وہ احساس نہیں آے۔۔۔

 

آج کافی عرصے بعد کسی جگہ پر کچھ دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر چائے پی،بے شمار باتیں کی،خوب ہنسیں بھی،۔ لیکن آج میں نے کوئی تصویرنہیں لی،کیونکہ میں نے آج پہلی دفع احساسات کو،جزبات کو سامنے آتے دیکھا،آج مجھے بے تکی باتیں بھی مزیدار لگیں،کیونکہ شاید کہنے والوں کی آنکھوں میں کوئی کشش تھی،۔۔۔

 

 

لیکن کشش تو پہلے بھی لوگوں میں ہوتی تھی،ہاں یقینی طور پر ہوتی ہوگی مگر پہلے میں شاید ہمیشہ کسی نوٹیفیکیش کے انتظار میں رہتا تھا،کسی نیو فرینڈ ریکویسٹ کے انتظار میں،کسی نیو لائک یا کمینٹ یا میسج کے۔۔

 

 

مگر آج مجھے کسی بھی ایسی چیز کا انتظار نہیں تھا، میںاحساسات اور جزبات کے ساتھ جھڑا ہو ا تھا۔ اتنا زیادہ کے میں اس ساری گفتگو کے دوران اپنا موبائل بھی چیک نہ کر پایا۔۔۔۔

 

کسی طویل قید میں پڑے پرندے کے لئے صرف پنجرے کے دروازے کا کھل جاننے کا نام آزادی نہیں،بلکہ آزادی اس مقام سے کہیں آگے بلکہ یوں کہیےبہت ہی آگے ہے،کیونکہ آزادی صرف ظاہری زنجیروں سے آزادی کا نام نہیں بلکہ ان دیکھی زنیجروں سے چھٹکارہ اور اس کے بعد وہ ہمت جو آ پ کو جینے کا حوصلہ دے، جو کھل کے سانس لینے ،ہنس کے آسمان کو دیکھنے ،ستاروں کو ،پھولوں کو،بچوں کو پرندوں کو سب کو مسکرا کر دیکھ نے کی ہمت دے ،آنکھو ں میں آنکھیں ڈال کے باتیں کرنے اور احساسات کو محصوص کرنے،اور جزبات کوسمجھنے کی سوچ ملے تو آپ مان لی جیئگا کہ آپ آزاد ہیں۔

 

 

ورنہ آپ ان اسکرینوں کے پیچھے بیٹھے نوٹیفیکشنز کے چکروں میں مصروف ہونگے اور آپ کو احساس ہوگا کہ شاید بہت سے لوگ آپ سے بات کرنا چاہتے تھے لیکن آپ ان کو سن نہیں پائے،۔۔۔۔۔

My Love for her <3

 Today when after so many days I met her,

The feelings weren’t same but there was some kind of force which attracted me towards her. I went closer to her, she didn’t move even a single step from her position.

I inquired about her life without me. She didn’t speak a single word like always, I took her hand in my hand and I felt coldness of her body.

May be there was some kind of anger or jealousy inside her seeing me traveling without her or maybe she was saying now you are a big man and I am not as important to you anymore, as you have many others all around you.

I walked with her along the way.

She didn’t reply with a single word.

She didn’t look at me… Even I wanted her attention like never before…
I Don’t know what she wanted to say, but may be when I am away and no one takes care of her and being every second away from me, kills her inside slowly slowly.. Like poison…..

But I now I feel I need to give her the love and courage she deserves.. As she was with me when no one else was there.

We reached back home and now she is a bit okay I assume.
With this believe that I will love those who deserve my love.

And tomorrow again I am leaving home; won’t be able to see her for so long,
Thinking this makes me sad so I took her photo in my mobile.

‪#‎ThankYouForReadingThisIsTheStoryOfMyCycleDontGetEmotional‬.

 

 

IMG_20150319_220542

خود سے جھوٹ بولنے والی قوم

 یہ پاکستان کی ایک سڑک ہے جس پر شیدید ترین ٹریفک جام ہے ،آپ گھر پہنچنا چاہتے ہیں چونکہ ٹی وی پر پاکستان کا کرکٹ میچ چل رہا ہے اور آپ کا دل بے قرار ہے آپ فوراََ سے پہلے گھر پہنچیں اور ٹی وی کے سامنے براجمان ہوکر مزے سے ٹی وی پر میچ دکھیں۔
 
لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ ٹریفک شدید جام ہے اور آپ کا گھر جلدی  پہنچنا  بے حد مشکل ہے،چونکہ آپ میچ کے بھی شوقین ہیں تو آپ مین  سڑک پر کھڑے ہی رہتے ہیں اور اپنی جیب سے ایک عدد قدرے قیمتی موبائل نکالتے ہیں اور اس پر اپنے نیٹورک کے زریعے لائیو سٹریمنگ )یعنی براراست نشریات) کوبڑھے شوق سےنہ صرف خود انجوائے کرتے بلکہ ساتھ میں کھڑے دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی اپنی موبائل کی سکرین شئر کرتے ہیں۔

مطلب مزہ آگیا ،مطلب فل ٹائم بہترین،دل خوش کرنے والی صورتحال، نہ آپ کو کوئی خوف کہ کوئی موبائل چھین کے لے جائگا، نہ یہ خوف کہ پیچھے کھڑی گاڑی والا استاد آپ کو ماں بہن گالی دیگا، نہ آپ کو یہ پرواہ کہ ہماری سڑکوں پر موجود آلودگی ٓآپ کا حلیہ بگاڑ دیگی۔
 
آگے چلتے ہیں  اور آپکو ایک  پسماندہ سے گائوں میں لے جاتے ہیں وہاں پر کچھ بچے ہوتے ہیں، ہوتے تو گائوں کے بچے ہیں لیکن وہ بہت ہی ماڈرن سے کپڑوں میں ہوتے ہیں جن کو پینے کو  پیپسی بھی میسر ہوتی ہے لیکن وہ ہوتے ایک گاوٗں کے بچے ہیں۔

مطلب کیا ہی اعلی بات ہے کہ آپ کی ریاست جہاں روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا لگا کرحکومتیں بدلتی رہی ہے وہاں کے گائوں کے بچوں کو اسکول جانے کے لئے  اسکول نہیں اور کھانے کو مناسب خوراک نہیں لیکن وہ اعلی کوالٹی کے کپڑے پہن کر پیپسی پیتے ہیں اور کرکٹ کھیلتے ہیں۔
یہ صرف دو مثالیں جو آج کل ہمارے ٹی وی چینلز کی زینت بنے ہوئے ہیں،ایسے بے شمار اشتہارات جن کو ہم روزانہ کی بنیاد پر اپنے ٹی چینلز پر دیکھتے رہتے جو بنائے تو صر ف اس دس فیصد طبقے کے لئے جاتے ہیں جن کو حرف عام میں اشرفا یا الیٹ کلاس کہا جاتا ہے لیکن دیکھنا پوری قوم کو پڑتا ہے، کبھی کسی بناسپتی گھی کے اشتہار میں دیکھائے گئے ہائی فائی کچن کے نقش و نگار،کبھی کسی جوس کے اشتہار میں دیکھائے دو یا ایک صحت مند بچوں کی صورت میں بہترین زندگی کی صورت میں۔
یا پھر کسی جھونپڑی میں رہنے والی لڑکی کی صور ت میں جس کی قسمت صرف ایک تیس روپے والی کریم صرف اس کا رنگ نہیں بدلتی بلکہ اس کی قسمت کا رنگ بھی بدلدیتی ہے اور کوئی امیرزادہ اپنی بڑھی سے کوٹھی سے نکلتا ہے ،بڑھی گاڑی میں سے بڑھی سی شیروانی پہن کر اترتا اور اس جھونپڑی والی لڑکی کو بیا کر لے جاتاہے۔
اور ہم آپ اور ہم سب اپنے گھر میں بیٹھ کر بڑے مزے سے یہ اشتہار دیکھتے ہیں اور دل ہی دل میں خوش ہوتے ہیں،
تھوڑا بہت سوچتے بھی نہیں کہ یہ کس دنیا کی تصویر ہمیں دکھائی جارہی ہے جو ہماری حقیقی زندگی سے بہت ہی دور ہے، شاید ہم ان کو اتنا سیریس نہیں لیتے کیونکہ ہمیں ہمیشہ سے اپنے آپ کے ساتھ جھوٹ بولنے کا عادی بنا دیا گیا ہے۔ ہمارہ نصاب ہماری راویتی کہانیاں ہمیں صرف اپنے آپ کے ساتھ جھوٹ بولنا ہی سکھاتی رہی ہیں،
ہماری صورتحال چاہے وہ ذاتی حد تک ہو یا قومی حد تک ہم بلکل اسی طرح ہے ہمیں کبھی بھی اپنے آپ  سے،اپنی ریاست سے یا اس کے اداروں سے سوال کرنے کا نہیں سکھایا گیا، بس جو بتایا جاتا رہا اس کو دیکھ کہ خوش ہوتے ہیں،تالیاں بجاتے ہیں اور پھر کوئی اور آتا ہے دوسرا اشتہار چلاتا ہے،ہم دیکھتے ہیں تالیںاں بجاتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔